خطوطِ غالب جدید

March 27, 2010 at 11:06 AMAdministrator

از: حکیم حاذق

منشی ہر گوپال تفتہ کے نام

کاشانہِ دل کے ماہِ دو ہفتہ، منشی ہر گوپال تفتہ،

جنابِ من، جنابِ باری کے حکم کے مطابق فقیرِ عاجز باغِ رضواں سے روانہ ہوا اور بسبیلِ جہازِ خلائی و ہوائی واردِ ہندوستان ہوا۔ فرودگاہِ پالم میں نزول کیا۔ لیکن صاحب یہ وہ دہلی نہیں جس میں عمرِ عزیز تمام کی تھی۔ جہاں پر ریختہ کی استادی میں نام پیدا کیا۔ جہان فارسی میں شعر ہائے رنگ رنگ کہے۔ جہاں پرشاہِ دیندارِ تیموری اور جہاندارِ نیکوکار انگریزی کے قصیدے لکھے۔ جہاں پر تم جیسے احباب کے ساتھ تعلقِ خاطر تھا۔ مسلمانوں میں جو ذوقِ علم رکھتے تھے، کب کے ملک بدر ہو چکے۔ جو باقی بچے وہ متاعِ اردو سے ہاتھ دھو چکے۔ صاحبانِ عالیشان انگریزی کب کے جاہ و جلالِ مُلک و حکومت کھو چکے۔ ہندوستانِ فلک نشان کے حصے بخرے ہو چکے۔

More...

Posted in:

Tags:

تعویذ دافع بلیات

March 20, 2010 at 1:51 PMAdministrator

تعویذ دافع بلیات

المعروف بہ

ملفوظاتِ گُربہِ ملّت

[تمغہِ امتیاز،ستارہِ بسالت]

از: حکیم حاذق

حضرت گربہِ ملت، قطّہِ امت، خانوادہِ مخابراتیہ کے ایک جلیل القدر بزرگ ہو گزرے ہیں۔ سلسلہ مخابراتیہ بین السروِسیہ، [حساسیہ] میں آپ کو امام العصر تسلیم کیا جاتا ہے۔ اہلِ دائرۃُ المعارف، المعروف بہ آئی بی، آپ کی تعظیم و تکریم میں غلو کرتے ہیں اور بسا اوقات احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیتے ہیں۔

More...

Posted in:

Tags:

درگاہِ جاتی عمرہ

March 13, 2010 at 11:26 AMAdministrator

ملفوظاتِ شریفِ مکہ

از: حکیم حاذق

تعاون بشکریہ،

ذوالنّون مصری

[ترجمانِ خصوصی، مسلم لیگ نون]

لاہور کی خاکِ پاک عرشِ منور کے برابر ہے۔ بیسیوں بزرگانِ عالیشان اس خاک میں آسودہ ہیں۔ حضرت شریف الاشراف، گیسو دراز اسی ارضِ مقدس کے فرزندِ ارجمند ہیں۔ حضرتِ ایزدی کی یہ ہم سب پر بے بہا نوازش ہے۔

ہو حلقہِ یاراں تو بریشم کی طرح نرم

رزمِ حق و باطل ہوتو فولاد ہے مومن

More...

Posted in:

Tags:

ملفوظاتِ شیخ الجرس

March 6, 2010 at 12:55 PMAdministrator

از: حکیم حاذق

آپ سلسلہ عالیہ جرنیلیہ کے نہایت جید بزرگ تھے۔ آپ کے جد امجد زمانہ ما قبل از تاریخ میں ماورا النہر سے حلقہ ۵۵ تشریف لائے۔ یہ وہی نہر ہے جس پر نہر والی حویلی واقع ہے۔  اور یہ وہی جدِ امجد ہیں جو آج کل بعبور دریائے شور، ماورا النہر الٹیمز، ایجویر روڈ پر محوِخواب ہیں۔ آپ کی درگاہ مرجعِ خاص و عام ہے۔ مرحوم سماع کے بے حد شوقین تھے۔ کئی مرتبہ خود بھی طبلے پر سنگت کرتے تھے۔ آپ ہی کے مرقدِ پُر نور میں روشن خیال اعتدال پسندی بھی دفن ہے۔

خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں۔

More...

Posted in:

Tags: